جمعرات، 30 اپریل، 2020

'عرفان خان ایک جادُو کی طرح تھے اور رہیں گے'

انڈیا کے نامور اداکار عرفان خان کے انتقال پر جہاں بالی وڈ اور پاکستان کے اداکاروں نے غم اور افسوس کا اظہار کیا ہے، وہیں ہالی وڈ سے تعلق رکھنے والے آرٹسٹس نے بھی ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے انہیں یاد کیا ہے۔
ہالی وڈ کی فلم 'دی امیزنگ سپائیڈرمین' جس میں عرفان خان نے ڈاکٹر راتھا کا کردار ادا کیا تھا، کے ہدایت کار مارک ویب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 'عرفان خان اپنے رویے سے صاف ظاہر کرتے تھے کہ طاقت اور نرمی ایک ساتھ ایک شخص میں موجود ہو سکتی ہے۔'


امریکی اداکارہ منڈی کیلنگ نے عرفان خان کے لیے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ 'اس عمر میں ان کی موت نہایت غمناک بات ہے۔ وہ میرے پسندیدہ اداکار تھے۔ مجھے کسی ایسے (اداکار) کا نہیں معلوم جو مووی سٹار ہونے کے ساتھ ساتھ اتنا سوچ بچار کر کے پرفارم کرتا ہو۔۔۔'

فلم 'جوریسک ورلڈ' میں عرفان خان کے ساتھ کام کرنے والے امریکی اداکار کرس پریٹ نے عرفان خان کی موت پرے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ 'وہ ایک اعلیٰ اداکار اور انسان تھے۔ انہیں یاد کیا جائے گا۔'


ماہ رمضان میں مصر کی سڑکوں پر جھگڑے کیوں؟

مصر کے کئی شہروں میں رمضان کے مہینے میں سڑکوں اور گلیوں میں جھگڑے بڑھنے کی کچھ وجوہات ہیں۔
عرب نیوز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق  ڈاکٹروں کی رائے ہے کہ یہ آپسی جھگڑے وقتی طور پر  تمباکو نوشی  یا کیفین میں وقفہ یا پھر اس کے علاوہ کھانے پینے کے اوقات میں تاخیر کے باعث ہوتے ہیں۔



مصر کے ڈاکٹر احمد الزوفالی نے کہا ہے کہ خاص طور پر رمضان میں دن کے اوقات میں اس غصے بلکہ غم کے پیچھے لوگوں کی وقتی طور پر بری عادات سے رکنے کی علامات سامنے آئی ہیں۔
اس مقدس مہینے میں طلوع آفتاب سے غروب آفتاب تک کھانے پینے کی ممانعت اور کیفین یا نیکوٹین کی عدم دستیابی عادی افراد کے مزاج کو بدل دیتی ہے۔
ان کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والوں کی اکثریت اپنی خواہش کو  زیادہ دیر تک روکے رکھنے سے  تناو اور اضطراب کی کیفیت میں چلی جاتی ہے  اور یہ علامات روزے کی بجائے نشے کی بری عادت کے باعث ہیں۔

قاہرہ میں نفسیاتی مرکز کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اشرف الکردی نے کہا ہے کہ ایسا  نہیں ہے کہ رمضان اور تناو میں کوئی ربط ہے۔ گھبراہٹ یا اضطراب کا روزے سے کوئی تعلق نہیں ، بری عادات رکھنے والے افراد رمضان میں اوقات کی تبدیلی کے باعث  اس کیفیت سے دوچار ہوجاتے ہیں۔
ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق انسانی  جسم کے ساتھ ساتھ دماغ کے لیے پانی کا  سب سے زیادہ  اور اہم کردار ہے اور  پھر روزہ کی حالت میں پانی نہ پینا  ایسے لوگوں کی طبیعت پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔ جس سے بعض اوقات  وہ گھبراہٹ،اضطراب  اور کم حوصلے کا شکار ہوجاتے ہیں.

ان سب کے علاوہ متعدد ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ  اخلاقیات اور بنیادی طور پر مذہبی اقدار کی کمی  یا عدم موجودگی بھی ایسے عناصر ہیں جو روزہ دار کو پرتشدد کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں۔
رمضان المبارک کے دوران لوگوں میں لڑائی جھگڑوں میں اخلاقی گراوٹ کی بجائے معاشی بحرانوں کے دلائل کے پیچھے چھپنا کسی بھی صورت ٹھیک نہیں ہے۔
آج کل کے نوجوانو ں میں ناقص اخلاق  کی ایک وجہ معاشرتی ناہمواری ، خاندانوں میں ناچاقی اور بنیادی تعلیم کا فقدان ہے جو انہیں بہت چھوٹی عمر میں دی جانی چاہئے۔
ماہر خوراک نادین شکری نے روزہ رکھنے والے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ  رمضان کے اس مہینے کو غنیمت جان کر تمباکو نوشی ترک کر دیں اور سحر اور افطار میں بہت زیادہ مقدار میں پانی یا دیگر مشروبات کا استعمال کریں تا کہ جسم اور دماغ میں پانی کی کمی کا احساس نہ ہو۔

جمعرات، 23 اپریل، 2020

کورونا سورج کی شعاعوں میں تیزی سے ختم ہوتا ہے: نئی تحقیق

 
امریکی سائنسدانوں کے مطابق سورج کی روشنی کورونا وائرس کو جلدی تباہ کر دیتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایک امریکی اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے کہا ہے کہ سرکاری سائنسدانوں کی تحقیق سے موسم گرما میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی آنے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم تحقیقاتی رپورٹ دیگر سائنسدانوں کے تجزیے کے لیے فی الحال جاری نہیں کی گئی۔ 
امریکی محکمہ برائے ہوم لینڈ سکیورٹی کے مشیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ویلیم برائن نے وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعیں پیتھوجن یا مرض پھیلانے والے جرثومے کو بری طرح متاثر کرتی ہیں جس سے وائرس کے جراثیم کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملتا۔ 
ویلیم برائن کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت یا نمی میں اضافہ بھی جراثیم کے پھلنے پھولنے کے لیے سازگار ماحول نہیں پیدا کرتا۔

تحقیق کے مطابق سورج کی روشنی ہوا میں اور 
اشیا کی سطح پر موجود جراثیم کے ذرات کو مارنے کی طاقت رکھتی ہے۔
امریکی مشیر ویلیم برائن نے تحقیق کے حوالے سے کہا کہ بیس فیصد نمی اور اکیس سے چوبیس سلسیس ڈگری کے درجہ حرارت کے دوران وائرس صرف اٹھارہ گھنٹے کے لیے مؤثر رہتا ہے، وہ بھی دروازے کے ہینڈلز اور سٹین لیس سٹیل سے بنی ہوئی اشیا پر، جبکہ ہوا میں موجود جراثیم کے ذرات ایک گھنٹے کے لیے زندہ رہتے ہیں۔

 لیکن نمی کا تناسب اسی فیصد ہونے پر، وائرس چھ گھنٹوں کے  مؤثر ہوتا ہے، اور اگر اس کے ساتھ سورج کی روشنی بھی شامل ہو جائے تو دو منٹ کے بعد وائرس مر جاتا ہے۔ جبکہ ہوا میں موجود جراثیم کے ذرات صرف 
ڈیڑھ منٹ کے لیے زندہ رہتے ہیں۔

امریکی تحقیق کا فی الحال دیگر سائنسدانوں نے جائزہ نہیں لیا اس لیے ماہرین کے لیے کوئی بھی حتمی نتیجہ اخذ کرنا فی الحال قبل از وقت ہوگا۔

اس سے قبل بھی یہ بات سامنے آچکی ہے کہ سورج کی الٹرا وائلٹ شعاعوں سے وائرس کے جراثیم مرتے ہیں اور ان کو پھلنے پھولنے کا موقع نہیں ملتا۔ 
امریکی ٹیکساس یونیورسٹی کے بائیولوجیکل سائنسز کے چیئرمین بینجمن نیومن نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا امریکی سائنسدانوں کے تجربے میں استعمال کی گئی شعاعوں کی نوعیت ویسی ہی ہے جو گرمیوں کی سورج کی روشنی کی ہوتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا یہ جاننا ضروری ہے کہ وائرس کے کونسے پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم نے نتائج اخذ کیے ہیں۔
مشیر ویلیم برائن نے متنبہ کیا کہ وائرس کے جراثیم کے پھیلاؤ میں کمی آنے کا مطلب یہ نہیں کہ وائرس مکمل طور پر ختم ہوجائے گا اور سماجی فاصلہ رکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی، ایسا سمجھنا غیر ذمہ دارانا ہوگا۔
اس سے پہلے بھی سائنسدان اس بات پر اتفاق کر چکے ہیں کہ وائرس ٹھنڈے اور خشک موسم میں پھلتا پھولتا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ جنوبی نصف کرہ پر واقع ممالک جہاں موسم گرم اور نمی کا تناسب زیادہ ہے وہاں کورونا وائرس تیزی سے نہیں پھیلا۔ اس کی مثال آسٹریلیا میں ملتی ہے جہاں سات ہزار افراد میں کورونا کی تشخیص ہوئی ہے اور 77 ہلاکتیں واقع ہوئیں۔ جبکہ یہ تعداد شمالی نصف کرہ پر واقع ممالک میں کئی گنا زیادہ ہے۔

کورونا وائرس: مشہور خاتون نجومی کی 2020 کے آخر کی سب سے بڑی اور خوفناک پیشگوئی



’سازشی تھیوریوں‘ کو جگہ نہیں دی جائے گی: ٹوئٹر

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر نے کہا ہے کہ فائیو جی کی تنصیبات سے متعلق نقصان دہ ایسے مواد جس میں کہا گیا ہو کہ ​فائیو جی ٹیکنالوجی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے، کو ٹوئٹر سے بلاک کر دیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کہ ٹوئٹر کی سیفٹی ٹیم نہ صرف فائیو جی سے متعلق مواد بلکہ دنیا میں کھانا ختم ہونے کے حوالے سے جھوٹی خبروں کو بھی ہٹائے گی۔
ٹوئٹر سیفٹی ٹیم کے مطابق 'ہم نے ان غیر تصدیق شدہ دعوؤں کے خلاف اپنا کام شروع کر دیا ہے جو لوگوں کو نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے اکساتے ہیں۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف فائیو جی کی اہم تنصیبات کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر خوف و ہراس بھی پھیلا سکتی ہیں اور بدامنی کا سبب بھی بن سکتی ہیں
یورپی ممالک میں فائیو جی کے ٹاورز پر ہونے والے حملوں کے بعد کیا گیا ہے۔  ٹوئٹر کی جانب سے یہ اقدام اس لیے بھی کیا گیا کہ کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے متعلق غلط معلومات کو روکا جائے۔
ٹوئٹر کے مطابق ’ایسی ٹویٹس کو بھی ہٹا دیا جائے گا جن میں جھوٹ بولا جاتا ہے کہ کھانا ختم ہو رہا ہے اور کورونا وائرس فائیو جی پھیل رہا ہے

دنیا بھر میں کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلی ہیں۔ برطانیہ میں مبینہ طور پر موبائل فون کے ٹاورز کو اس لیے آگ لگا دی گئی تھی کہ فائیو جی ٹیکنالوجی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا باعث بن رہی ہے۔
برطانیہ میں موبائل نیٹ ورک مہیا کرنے والی کمپنیوں کی نمائندہ باڈی ’دی موبائل یو کے‘ نے کہا ہے کہ ’غلط قیاس آرائیاں اور نظریات تشویشناک ہیں۔'
رواں ماہ کے شروع میں برطانیہ کے شہر برمنگھم میں مشتعل افراد نے مبینہ طور پر فائیو جی ٹاورز کو آگ لگا دی تھی۔
فائیو جی سے متعلق سازشی تھیوری پر قابو پانے کے برطانیہ نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں اقدامات کیے جا رہے ہیں

مہلک وائرس کے دوران نیٹ فلیکس کا بخار نوجوانوں پہ سر چڑھ کر بولنے لگا، حیرت انگیز تحقیق سامنے آگئی

لوگ گھروں میں محصور ہونے کے سبب نیٹ فلکس کا زیادہ استعمال کر رہے ہیں جس کی وجہ سے اس کا سہ ماہی منافع پہلے سے دوگنا ہو گیا ہے۔ نیٹ فلکس کے دنیا بھر میں سبسکرائبر کی تعداد تقریبا 18 کروڑ 20 لاکھ ہوچکی ہے۔

کورونا وائرس کے دوران اب تک ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ لوگوں نے نیٹ فلکس کی آن لائن اسٹریمنگ کی سروس سبسکرائب کی ہے۔
سال2020 کی پہلی سہ ماہی میں نیٹ فلکس نے 5.8 ارب ڈالرز کی آمدنی پر لگ بھگ 71 کروڑ ڈالر منافع حاصل کیا ہے۔

کمپنی کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ کورونا کی وجہ سے سبسکرپشن بڑھی ہے اور آمدنی میں بھی اضافہ ہوا ہے لیکن دنیا میں حکومتوں کی جانب سے نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہم نے اپنی بیشتر پروڈکشنز روک دی ہیں۔
لوگ گھروں میں محظوظ ہونے اور وقت گزارنے کے لیے اس ویڈیو اسٹریمنگ سروس کا سہارا لے رہے ہیں جس کے سبب نیٹ فلکس کے منافع میں اضافہ ہوا۔
کمپنی کے مطابق گزشتہ سال کے آخر تک جتنے یوزرز سے نیٹ فلکس سبسکرائب کیا اب ان میں تقریبا دوگنا اضافہ ہوگیا ہے۔
نیٹ فلکس نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے باعث بیشتر پروڈکشن روک دی گئی ہے تاہم آمدنی میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق ہم اپنی سروسز کے لیے ممبرشپ میں اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ نیٹ فلکس کے مطابق کمپنی لاک ڈاﺅن کے دنوں میں ان لوگوں کو اپنی سروسز دے رہی ہے جو گھروں تک محدود ہیں۔
کمپنی نے مزید کہا کہ اگر کورونا وائرس کے باعث اس ہی طرح لاک ڈان نافذ رہا تو ہوسکتا ہے رواں سال جون تک اس سروس میں 75 لاکھ ممرز کا مزید اضافہ ہوجائے لیکن لاک ڈان ختم ہونے کے بعد ان یوزرز میں تیزی سے کمی آنے کا خدشہ بھی موجود ہے۔

بدھ، 22 اپریل، 2020

کیا پیسے کم پڑ گئے جو آپ نے بھی یوٹیوب چینل بنا لیا؟

کوروناوائرسکےپیشنظرلاکڈاونکیوجہسےپاکستانکیانٹرٹینمنٹانڈسٹریکےبیشتراداکاراوراداکارائیںگھروںسےیوٹیوبچینلچلارہےہیںجنمیںدنبدناضافہبھیہوتاجارہاہے۔
اپنایوٹیوبچینلچلانےوالوںکیفہرستمیںاداکارہعائشہعمر،فیصلقریشیاوراقراعزیزکےبعدابصباقمربھیشاملہوگئیہیں۔
صباقمرنےیوٹیوبچینلکاآغازتوکیاہےمگروہاسچینلپردیگراداکاروںکیطرحاپنےگھریاروزمرہکیزندگیکےحوالےسےباتنہیںکررہیںبلکہانکااندازسبسےمنفردہے۔ٹوئٹراکاؤنٹپرپہلیقسطکالنکشئیرکرتےہوئےانہوںنےلکھاہےکہ'آئسولیشنبائےصباقمرکیپہلیقسطآگئیہے،میرےچینلکوسبسکرائبکرنامتبھولیےگااوراپنیرائےسےبھیآگاہکیجیےگا۔'سوشلمیڈیاصارفیننےانکیاسمنفردکاوشکوسراہابھیجبکہتنقیدکرنےوالےبھیکسیسےپیچھےنہیںہیں۔ٹوئٹرصارفصادیہنیننےلکھاکہیہایکاچھیشروعاتہے۔ٹوئٹرصارفجمشیدبشیرنےلکھاکہ'مجھےنہیںلگتاکہآپکواسچینلکیضرورتبھیتھیوہبھیاسوقتمیںجبسٹارزگھروںمیںآرامکررہےہیں۔شایدپیسےکمپڑگئےہیںجسکیوجہسےآپکوبھیچینلکیضرورتپڑگئیہے۔'صباقمرنےآئسولیشنبائےصباقمر‘ کےعنوانسےاپنےیوٹیوبچینلپرپہلیقسطاپلوڈکیجسےانہوںنےخودلکھاہے۔ اسقسطمیںانہوںنےبتایاہےکہ'ہمسبلاکڈاؤنمیںساتھہیںآئسولیشنآسانبالکلنہیںہےبلکہہرانسانکودوسرےانسانکیضرورتہے

‏Saba Qamar Official ‏8.3K subscribers ‏Episode 01 - " Isolation " by Saba Qamar ‏


پڑوسیملکانڈیاکےسوشلمیڈیاصارفینکیطرفسےبھیاداکارہصباقمرکیاسکاوشکیتعریفکیجارہیہے۔
مقبولگلوکارگرورندھاوانےبھیاپنےٹوئٹراکاؤنٹپرصباقمرکیاسکاوشکیتعریفکیہےجسکےجوابمیںاداکارہنےانکاشکریہاداکیاہے۔

شرمیلا فاروقی ’اقبال کی شاعری‘ سنا کر مشکل میں پھنس گئیں

اپنی ہوم کوکنگ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے چکن سے مچھلی بنانے کا ذکر کرنے پر طنز و مزاح کا نشانہ بننے والی رکن سندھ اسمبلی شرمیلا فاروقی اس بار غلط شعر علامہ اقبال سے منسوب کرنے پر سوشل میڈیا کا موضوع بن گئیں۔
ماضی میں سیاست اور میڈیا میں فعال رہنے والی شرمیلا فاروقی شادی اور بچے کی پیدائش کے بعد قدرے خاموش رہیں تاہم اب ایک بار پھر وہ سوشل میڈیا اور دیگر سرگرمیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی ہین۔

اسی دوران سوشل میڈیا صارفین کے ہاتھ ان کی ایک ویڈیو لگ گئی جس میں شرمیلا فاروقی ایک شعر پڑھتے ہوئے دیکھی اور سنی جا سکتی ہیں۔ ’دل میں خدا کا ہونا لازم ہے اقبال ۔ سجدوں میں پڑے رہنے سے جنت نہیں ملتی۔‘
انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اسے علامہ محمد اقبال سے منسوب کیا۔ اگرچہ بعد میں یہ ویڈیو ان کے اکاؤنٹ سے ڈیلیٹ کر دی گئی تاہم اس سے قبل ہی سوشل میڈیا صارفین اسے محفوظ کر چکے تھے جہاں سے یہ دوبارہ ٹائم لائنز کی زینت بن گئی۔
افشاں مصعب نامی ایک صارف نے ان کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اپنے تبصرے میں لکھا ’اساتذہ کا پہلا سبق یہ ہوتا ہے کہ جس بات کی خبر نہ ہو اور جس معاملے پر دسترس نہ ہو اس میں خواری مول نہیں لینا چاہیے۔ اور گوگل پر اندھا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔۔  اقبال نوں بخش دیو لوکو۔‘


افشاں مصعب
@AfshanMasab
 اساتذہ کا پہلا سبق یہ ہوتا ہے کہ جس بات کی خبر نہ ہو اور جس معاملے پر دسترس نہ ہو اس میں خواری مول نہیں لینا چاہیے۔ اور گوگل پر اندھا اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔۔  #اقبال نوں بخش دیو  پلیز بس کردیں.    


کیا آپ کا فون بھی بار بار ہینگ ہوتا ہے؟ جانیں اپنے موبائل کی اسپیڈ بڑھانے کے 4 آزمودہ اور بہترین طریقے

اسمارٹ فون آج کل ہر بندے کی ضرورت بن چکا ہے، آپ اپنے فون کو ناصرف بطور پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں بلکہ اس سے آ...